لکھنؤ، 24؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )اتر پردیش کے گورنر رام نائک نے بی جے پی سے باہر کئے گئے لیڈر دیاشنکر سنگھ کی طرف سے بی ایس پی سربراہ مایاوتی کے خلاف مبینہ نازیبا تبصرہ کئے جانے کی مخالفت میں ان کی پارٹی کے کارکنوں کی طرف سے گذشتہ جمعرات کو لکھنؤ میں مظاہرے کے دوران سنگھ کے خاندان کی خواتین کے خلاف کی گئی قابل اعتراض نعرے بازی کی آڈیو اور ویڈیو کلپس مانگی ہے۔گورنر نے آج یہاں میڈیا کو بتایاکہ میں نے انتظامیہ اور پولیس سے گزشتہ دنوں لکھنؤ میں ہوئے بی ایس پی کے احتجاج کی آڈیو اور ویڈیو کلپس فراہم کرنے کو کہا ہے۔ کل ملاقات کرنے آئے بی جے پی کے وفد سے بھی میں نے کہا ہے کہ اگر اس سلسلے میں ان کے پاس کوئی معلومات ہے تو مجھے دیں۔نائک نے کہا کہ یہ صرف ایک واقعہ کی معلومات مانگنے کی کارروائی ہے۔ہم عام ایسے واقعات کی معلومات مانگتے ہیں۔غور طلب ہے کہ پولیس پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ اس نے بی ایس پی کے مظاہرے کی ویڈیو کرائی ہے اور اس کی جانچ کرنے کے بعد، مبینہ نازیبا تبصرہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔اشتعال انگیز تبصرہ کو لے کر سیاسی رسہ کشی بھی شروع ہو گئی ہے۔بی جے پی نے بی ایس پی سربراہ مایاوتی کے خلاف مبینہ قابل اعتراض تبصرے کے الزام میں پارٹی سے نکالے گئے لیڈر دیاشنکر سنگھ کے خاندان کی خاتون اراکین کے خلاف بی ایس پی لیڈروں کی طرف سے مبینہ اشتعال انگیز زبان کے استعمال پر احتجاج کرتے ہوئے کل ’بیٹی کے سمان میں، بی جے پی میدان میں‘ کے نعرے کے ساتھ پوری ریاست میں مظاہرہ کیا اور گورنر کو میمورنڈم سونپ کر قصورواروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا ۔بی ایس پی کارکنوں نے مایاوتی کے خلاف مبینہ قابل اعتراض تبصرے کے بعد گذشتہ جمعرات کو سنگھ کی گرفتاری کے مطالبہ کو لے کر دارالحکومت میں مظاہرہ کیا تھا۔اس دوران سنگھ کی بیٹی اور ان کے خاندان کی خاتون ارکان کے خلاف مبینہ نازیبا الفاظ کا استعمال کیا گیا تھا۔مظاہرے کی قیادت بی ایس پی کے جنرل سکریٹری نسیم الدین صدیقی نے کی تھی ۔اس معاملے میں سنگھ کی ماں تیترا دیوی کی طرف سے جمعہ کو حضرت گنج کوتوالی میں بی ایس پی سربراہ مایاوتی، بی ایس پی کے جنرل سکریٹری نسیم الدین صدیقی اور ریاستی صدر رام اچل راج بھر وغیرہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی۔